
فقہ حنفی اسلامی قانونِ وراثت کیلکولیٹر
Islamic Inheritance Calculator (Hanafi) سے آپ چند سیکنڈ میں جان سکتے ہیں کہ متوفی کی نقد رقم اور زمین میں بیوی یا شوہر، ماں، باپ، بیٹوں اور بیٹیوں کا شرعی حصہ کتنا بنتا ہے۔ قرآن مجید (سورۃ النساء 4:11–12) کے مطابق اولاد موجود ہو تو بیوی کو 1/8، شوہر کو 1/4 اور ماں باپ میں سے ہر ایک کو 1/6 ملتا ہے، اور باقی ترکہ بیٹوں اور بیٹیوں میں 2:1 کے تناسب سے تقسیم ہوتا ہے۔ یہ حساب تعلیمی رہنمائی ہے؛ حقیقی تقسیم سے پہلے کسی مستند مفتی یا دارالافتاء سے تصدیق ضرور کروائیں۔
اسلامی وراثت کیلکولیٹر (Islamic Inheritance Calculator) کیا ہے؟
یہ ایک مفت آن لائن وراثت کیلکولیٹر (Warasat Calculator) ہے جو فقہ حنفی کے بنیادی اصولوں کے مطابق متوفی کے ترکے — نقد رقم اور زمین (مربع، ایکڑ، کنال، مرلہ اور مربع فٹ) — کو قریبی وارثوں میں تقسیم کر کے دکھاتا ہے: بیوی/بیویاں یا شوہر، ماں، باپ، بیٹے اور بیٹیاں۔ ہر وارث کا فیصد حصہ، رقم اور زمین کا رقبہ الگ الگ سامنے آ جاتا ہے۔
وراثت کی تقسیم ایک اہم دینی فریضہ ہے۔ معلومات کی کمی، پیچیدہ حساب یا رسم و رواج کی وجہ سے اکثر تقسیم میں تاخیر ہوتی ہے یا بیٹیوں اور بہنوں کا حق نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس ٹول کا مقصد یہ ہے کہ ہر خاندان کو بنیادی شرعی حصوں کا واضح اندازہ ہو جائے۔ عورتوں کے وراثتی اور دیگر حقوق کی تفصیل کے لیے ہمارا مضمون اسلام میں عورت کے حقوق اور مقام بھی پڑھیں۔
Hanafi Inheritance Calculator استعمال کرنے کا طریقہ
- متوفی کی تفصیل: «متوفی کون ہے؟» میں مرد یا عورت منتخب کریں۔ مرد منتخب کرنے پر بیویوں کی تعداد کا خانہ، اور عورت منتخب کرنے پر «کیا شوہر حیات ہے؟» کا خانہ ظاہر ہوگا۔
- کل وراثت / جائیداد: کفن دفن کے اخراجات، قرض اور جائز وصیت نکالنے کے بعد جو رقم بچے وہ «کل رقم (روپے)» میں لکھیں۔ زمین ہو تو اس کا رقبہ مربعے، ایکڑ، کنال، مرلہ یا مربع فٹ کے خانوں میں درج کریں — کیلکولیٹر سب کو جمع کر کے مربع فٹ میں بدل لیتا ہے۔
- ورثاء کی تفصیل: صرف وہ وارث درج کریں جو متوفی کی وفات کے وقت زندہ تھے: بیویوں کی تعداد (1 تا 4) یا شوہر، والد، والدہ، بیٹوں اور بیٹیوں کی تعداد۔
- حساب: «وراثت تقسیم کریں» کا بٹن دبائیں۔
- نتیجہ پڑھیں: ٹیبل میں ہر وارث کے سامنے فی کس فیصد حصہ، نقد رقم، فی کس زمین کا حصہ (ایکڑ، کنال، مرلہ، مربع فٹ) اور پورے گروپ (مثلاً تمام بیٹوں) کا اکٹھا حصہ دکھایا جاتا ہے۔
توجہ: اگر نتیجے میں تمام وارثوں کے فیصد حصوں کا مجموعہ 100% سے کم یا زیادہ ہو تو یہ رد یا عول کی صورت ہے، جسے یہ ٹول خودکار طور پر حل نہیں کرتا۔ تفصیل نیچے «کیلکولیٹر کی حدود» میں دیکھیں۔
اسلامی قانونِ وراثت کے بنیادی اصول (Principles of Islamic Inheritance)
اسلام میں وراثت کا نظام عدل، انصاف اور حکمت پر مبنی ہے۔ قرآن مجید کی سورۃ النساء (آیات 11، 12 اور 176) میں وراثت کے قوانین اور حصوں کی صراحت کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے۔ اسلامی وراثت کے کچھ بنیادی اصول درج ذیل ہیں:
1. ترکے کی صاف شفاف تعین (Tarqah Determination)
کسی بھی فوت ہونے والے شخص کی جائیداد کو وارثوں میں تقسیم کرنے سے پہلے چار بنیادی مراحل سے گزرنا ضروری ہوتا ہے:
- تجهيز وتكفين (تجہیز و تکفین): متوفی کے غسل، کفن اور تدفین کے درمیانے اور جائز اخراجات سب سے پہلے ترکے سے ادا کیے جائیں گے۔
- اداء الديون (قرضوں کی ادائیگی): متوفی کے ذمے لوگوں کے قرضے اور بیوی کا غیر ادا شدہ مہر پورے ادا کیے جائیں گے۔ فقہ حنفی میں فوت شدہ زکوٰۃ یا نذر جیسے حقوق اللہ اسی صورت ترکے سے ادا ہوتے ہیں جب متوفی نے ان کی وصیت کی ہو، اور وہ بھی ایک تہائی کی حد تک۔
- تنفيذ الوصايا (وصیت پر عمل): اگر متوفی نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو قرض ادا کرنے کے بعد بچے ہوئے مال کے ایک تہائی (1/3) تک اسے نافذ کیا جائے گا۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے فرمایا: «تہائی، اور تہائی بھی بہت ہے» (صحیح بخاری 2742)۔ وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں (جامع ترمذی 2120)؛ فقہ حنفی میں یہ صرف اسی صورت نافذ ہوتی ہے جب باقی بالغ ورثاء اجازت دیں۔
- تقسيم الترکة (ترکے کی تقسیم): مذکورہ بالا تینوں امور کی انجام دہی کے بعد جو جائیداد یا رقم بچے گی، اسے تمام شرعی وارثوں میں ان کے طے شدہ حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
تجہیز و تکفین کے مسائل کے لیے نماز جنازہ کا طریقہ اور جنازے کی دعائیں اور مرحوم کے لیے مغفرت کی مسنون دعائیں بھی دیکھیں۔
فقہ حنفی میں وراثت کے مقررہ حصے – خلاصہ جدول
نیچے دیا گیا جدول سورۃ النساء 4:11 اور 4:12 میں بیان کردہ بنیادی حصوں کا خلاصہ ہے (اولاد سے مراد بیٹا یا بیٹی ہے):
| وارث | اولاد موجود ہو | اولاد نہ ہو |
|---|---|---|
| بیوی (ایک ہو یا زیادہ، سب مل کر) | 1/8 | 1/4 |
| شوہر | 1/4 | 1/2 |
| ماں | 1/6 | 1/3 (دو یا زیادہ بہن بھائی ہوں تو 1/6) |
| باپ | 1/6 (صرف بیٹیاں ہوں تو 1/6 + باقی ماندہ) | باقی ماندہ سارا (عصبہ) |
| ایک بیٹی (بیٹا نہ ہو) | 1/2 | — |
| دو یا زیادہ بیٹیاں (بیٹا نہ ہو) | 2/3 (برابر تقسیم) | — |
| بیٹے اور بیٹیاں | باقی ماندہ؛ بیٹے کو بیٹی سے دوگنا | — |
وراثت میں بیوی کا کتنا حصہ ہوتا ہے؟
بیوی کا حصہ اس بات پر منحصر ہے کہ متوفی شوہر کی اولاد ہے یا نہیں:
- اولاد کی موجودگی میں (1/8): اگر متوفی شوہر کی کوئی اولاد (بیٹا یا بیٹی، چاہے اسی بیوی سے ہو یا کسی اور بیوی سے) موجود ہو تو بیوی یا تمام بیویوں کا مجموعی حصہ ترکے کا آٹھواں حصہ (1/8 یعنی 12.5%) ہے۔
- اولاد نہ ہو (1/4): اگر شوہر کی کوئی اولاد نہ ہو تو بیوی یا بیویوں کا مجموعی حصہ چوتھائی (1/4 یعنی 25%) ہے۔
- ایک سے زائد بیویاں: 1/8 یا 1/4 کا یہ مقررہ حصہ تمام بیویوں میں برابر تقسیم ہوتا ہے، ہر بیوی کو الگ سے پورا حصہ نہیں ملتا۔
وراثت میں شوہر کا کتنا حصہ ہوتا ہے؟
- اولاد کی موجودگی میں (1/4): اگر متوفی بیوی کی کوئی اولاد ہو تو شوہر کا حصہ چوتھائی (25%) ہے۔
- اولاد نہ ہو (1/2): اگر بیوی کی کوئی اولاد نہ ہو تو شوہر کو ترکے کا آدھا (50%) ملتا ہے۔
بیٹے اور بیٹی کا وراثتی حصہ کیسے نکلتا ہے؟
1. بیٹے اور بیٹیاں دونوں موجود ہوں
قرآن مجید کا حکم ہے: «لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ» (ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے – النساء 4:11)۔ یعنی ذوی الفروض (بیوی/شوہر، ماں، باپ) کے حصے دینے کے بعد باقی ترکہ اس طرح تقسیم ہوتا ہے کہ ہر بیٹے کو ہر بیٹی سے دوگنا ملے۔
مثال: 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہوں تو ہر بیٹے کے 2 اور ہر بیٹی کا 1 حصہ شمار ہوگا (2×2 + 2×1 = 6 حصے)۔ باقی ترکے کے 6 حصے کر کے ہر بیٹے کو 2 اور ہر بیٹی کو 1 حصہ ملے گا۔
2. صرف بیٹیاں ہوں (بیٹا نہ ہو)
- ایک بیٹی: اسے ترکے کا آدھا (1/2) بطورِ فرض ملتا ہے۔
- دو یا زیادہ بیٹیاں: سب مل کر دو تہائی (2/3) کی حقدار ہیں، جو ان میں برابر تقسیم ہوتا ہے۔
3. صرف بیٹے ہوں (بیٹی نہ ہو)
ذوی الفروض کا حصہ دینے کے بعد باقی تمام ترکہ بیٹوں میں برابر تقسیم ہوتا ہے۔
ماں کا وراثت میں کتنا حصہ ہے؟
- 1/6: اگر متوفی کی اولاد ہو، یا اس کے دو یا زیادہ بہن بھائی (سگے، علاتی یا اخیافی) ہوں۔
- 1/3: اگر نہ اولاد ہو اور نہ دو یا زیادہ بہن بھائی۔
- عمریتان (Umariyyatan): اگر وارث صرف شوہر یا بیوی، ماں اور باپ ہوں تو ماں کو شوہر/بیوی کا حصہ نکالنے کے بعد باقی کا 1/3 ملتا ہے، پورے ترکے کا نہیں۔
باپ کا وراثت میں کتنا حصہ ہے؟
- صرف فرض (1/6): اگر متوفی کا بیٹا یا پوتا موجود ہو۔
- فرض + عصبہ (1/6 + باقی): اگر صرف بیٹی یا پوتی ہو تو والد کو 1/6 ملتا ہے اور باقی وارثوں کے بعد بچا ہوا مال بھی بطورِ عصبہ والد کو ملتا ہے۔
- صرف عصبہ: اگر کوئی اولاد نہ ہو تو ذوی الفروض کے بعد باقی سارا مال والد کا ہے۔
Warasat Calculator میں رقم کا حساب کیسے ہوتا ہے؟
فارمولا سادہ ہے: وارث کا حصہ = کل قابلِ تقسیم رقم × وارث کا شرعی تناسب
عملی مثال: متوفی نے 10 لاکھ روپے (Rs 1,000,000) چھوڑے، اور وارث ایک بیوی، ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہیں (والدین حیات نہیں):
- بیوی کا حصہ (اولاد موجود، 1/8): Rs 1,000,000 × 1/8 = Rs 125,000
- باقی رقم: Rs 1,000,000 − Rs 125,000 = Rs 875,000
- بیٹا اور بیٹی (2:1، یعنی کل 3 حصے):
- بیٹا: Rs 875,000 × 2/3 = Rs 583,333.33
- بیٹی: Rs 875,000 × 1/3 = Rs 291,666.67
زمین کی وراثت کا حصہ مربع فٹ میں کیسے نکالیں؟
پاکستان اور جنوبی ایشیا میں زمین کی پیمائش کے لیے ایکڑ، کنال اور مرلہ جیسی مقامی اکائیاں استعمال ہوتی ہیں۔ وراثت کی درست تقسیم کے لیے کیلکولیٹر پورے رقبے کو پہلے مربع فٹ (Square Feet) میں بدلتا ہے، ہر وارث کا حصہ نکالتا ہے اور پھر اسے دوبارہ ایکڑ، کنال اور مرلہ میں دکھاتا ہے۔
مرلہ، کنال، ایکڑ اور مربع کا حساب (Conversion Table)
یہ کیلکولیٹر ریونیو (پٹوار) ریکارڈ والی پیمائش استعمال کرتا ہے، جس میں 1 مرلہ = 272.25 مربع فٹ ہے:
| زمین کی اکائی (Unit) | مساوی پیمائش (Equivalent) | کل مربع فٹ (Total Sq. Ft.) |
|---|---|---|
| 1 مرلہ (Marla) | — | 272.25 sq ft |
| 1 کنال (Kanal) | 20 مرلہ | 5,445 sq ft |
| 1 ایکڑ (Acre) | 8 کنال / 160 مرلہ | 43,560 sq ft |
| 1 مربع (Murabba) | 25 ایکڑ | 1,089,000 sq ft |
نوٹ: بعض شہری ہاؤسنگ سوسائٹیز میں 1 مرلہ 225 مربع فٹ کا شمار کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کا پلاٹ ایسی سوسائٹی میں ہے تو رقبہ مرلے کے بجائے سیدھا «مربع فٹ» کے خانے میں درج کریں تاکہ حساب درست رہے۔
ہر وارث کا الگ الگ حصہ کیسے معلوم کریں؟
جب ایک سے زیادہ بیٹے، بیٹیاں یا بیویاں ہوں تو نتیجے کا ٹیبل دونوں چیزیں دکھاتا ہے: فی کس حصہ اور پورے گروپ کا اکٹھا حصہ۔ مثلاً اگر 3 بیٹوں کا مجموعی حصہ 60% ہے تو ہر بیٹے کا فی کس حصہ 20% ہوگا، اور اسی حساب سے اس کی نقد رقم اور زمین کا رقبہ الگ دکھایا جائے گا۔
رد (Radd) اور عول (Awl) کیا ہیں؟
بعض صورتوں میں مقررہ حصوں کا مجموعہ پورے ترکے کے برابر نہیں بنتا۔ فقہ حنفی میں ان صورتوں کو الرد اور العول کہا جاتا ہے:
1. الرد (Radd) – حصے کم اور مال بچ جائے
اگر تمام ذوی الفروض کو ان کے حصے دینے کے بعد مال بچ جائے اور کوئی عصبہ (مثلاً بیٹا یا باپ) موجود نہ ہو تو بچا ہوا مال انہی ذوی الفروض میں ان کے حصوں کے تناسب سے لوٹا دیا جاتا ہے۔ فقہ حنفی میں شوہر یا بیوی پر عام حالات میں رد نہیں ہوتا۔ مثال: وارث صرف ماں اور ایک بیٹی ہوں تو حصے 1/6 اور 1/2 بنتے ہیں (کل 2/3)؛ رد کے بعد ماں کو 1/4 اور بیٹی کو 3/4 ملے گا۔
2. العول (Awl) – حصے زیادہ اور مال کم پڑ جائے
اگر مقررہ حصوں کا مجموعہ 100% سے بڑھ جائے تو ہر وارث کا حصہ تناسب سے کم کر دیا جاتا ہے۔ مثال: بیوی فوت ہو اور وارث شوہر (1/4)، دو بیٹیاں (2/3)، ماں (1/6) اور باپ (1/6) ہوں تو مجموعہ 15/12 بنتا ہے؛ عول کے بعد شوہر کو 3/15، بیٹیوں کو 8/15، ماں کو 2/15 اور باپ کو 2/15 ملے گا۔
کیلکولیٹر کی حدود اور مفتی سے رجوع
یہ آن لائن کیلکولیٹر صرف تعلیمی اور ابتدائی حساب کی رہنمائی کے لیے ہے، یہ فتویٰ نہیں ہے۔ یہ صرف بیوی/شوہر، ماں، باپ، بیٹوں اور بیٹیوں کے بنیادی حصے نکالتا ہے۔ درج ذیل صورتوں میں نتیجہ نامکمل یا مختلف ہو سکتا ہے، اس لیے ان میں لازماً کسی مستند مفتی سے رجوع کریں:
- رد اور عول: یہ ٹول رد اور عول خودکار طور پر لاگو نہیں کرتا۔ اگر نتیجے میں فیصد حصوں کا مجموعہ 100% سے کم یا زیادہ ہو تو اوپر دی گئی مثالوں کی طرح حساب درکار ہوگا۔
- دیگر رشتہ دار: بہن بھائی، پوتے پوتیاں، دادا دادی اور دوسرے رشتہ دار اس ٹول میں شامل نہیں۔ مثلاً اولاد نہ ہو مگر دو یا زیادہ بہن بھائی ہوں تو ماں کا حصہ 1/6 ہوتا ہے، جبکہ ٹول 1/3 دکھائے گا۔
- عمریتان: اگر وارث صرف شوہر یا بیوی اور ماں باپ ہوں تو ماں کو باقی کا 1/3 ملتا ہے؛ ٹول پورے ترکے کا 1/3 دکھاتا ہے۔
- باقی ماندہ مال: اگر نہ بیٹا ہو نہ باپ، تو بچا ہوا مال دوسرے عصبات (مثلاً بھائی) یا رد کے ذریعے جاتا ہے، جسے ٹول تقسیم نہیں کرتا۔
- محرومی یا حجب (Exclusion Rules): کچھ رشتہ داروں کی موجودگی میں دوسرے رشتہ دار وراثت سے محروم ہو جاتے ہیں (مثلاً بیٹے کی موجودگی میں پوتا یا بھائی محروم ہو جاتا ہے)۔
- مناسخہ (Multiple Deaths): اگر خاندان میں ایک کے بعد دوسری موت واقع ہوئی ہو اور پہلی وراثت تقسیم نہ ہوئی ہو۔
- مشترکہ خاندانی جائیداد: جہاں یہ طے کرنا مشکل ہو کہ متوفی کا اپنا ذاتی مال کتنا تھا۔
- تنازعات اور عدالت: ملکیت کے تنازعات یا پیچیدہ خاندانی امور۔
لہٰذا کسی بھی جائیداد کی حتمی شرعی اور قانونی تقسیم سے پہلے ٹول کا نتیجہ ساتھ لے کر اپنے قریبی مستند دارالافتاء یا کسی مستند مفتی صاحب سے تحریری فتویٰ ضرور حاصل کریں، اور قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ عدالت یا ادارے سے رجوع کریں۔
Warasat Calculator Pakistan کے فوائد
- مفت اور فوری: بغیر رجسٹریشن یا فیس کے فوراً نتیجہ دیتا ہے۔
- موبائل فرینڈلی: سمارٹ فون، ٹیبلٹ یا کمپیوٹر پر آسانی سے استعمال ہوتا ہے۔
- رقم اور زمین دونوں: نقد رقم کے ساتھ زمین کا رقبہ بھی ایکڑ، کنال، مرلہ اور مربع فٹ میں الگ الگ دکھاتا ہے۔
- شفاف حساب: خاندان کے سامنے واضح حساب رکھنے سے غلط فہمیاں اور تنازعات کم ہوتے ہیں۔
- فقہ حنفی کی بنیاد پر: بنیادی حصے فقہ حنفی کے مطابق نکالے جاتے ہیں جو پاکستان اور بھارت میں رائج ہے۔
وراثت تقسیم کرتے وقت کن اہم باتوں کا خیال رکھیں؟
اگر آپ اپنے خاندان میں وراثت کی تقسیم کرنے جا رہے ہیں، تو درج ذیل اخلاقی و شرعی نکات کو مدنظر رکھیں:
- تاخیر سے گریز کریں: متوفی کی وفات کے بعد جلد از جلد شرعی واجبات ادا کر کے وراثت تقسیم کر دینی چاہیے۔ تاخیر سے مسائل اور بغض جنم لیتے ہیں۔
- خواتین کے حقوق کا تحفظ: اسلام میں بیٹیوں، بہنوں اور بیویوں کو وراثت کا مکمل حق دیا گیا ہے۔ جائیداد سے عورتوں کو محروم کرنا یا ان سے زبردستی دستبرداری کے کاغذات پر دستخط کروانا شدید گناہِ کبیرہ ہے۔
- رضامندی سے تقسیم: اگر تمام وارث بالغ اور عقلمند ہوں تو وہ باہمی رضامندی سے جائیداد کو فروخت کر کے نقد رقم تقسیم کر سکتے ہیں یا زمین کے حصے الگ کر سکتے ہیں۔
- قانونی کارروائی: پاکستان میں شرعی تقسیم کے ساتھ جانشینی سرٹیفکیٹ (Succession Certificate) یا Letter of Administration نادرا کے Succession Facilitation Unit (جہاں دستیاب ہو) یا متعلقہ عدالت سے حاصل کریں، اور زمین کا انتقال (Mutation) ریونیو ریکارڈ میں درج کروائیں۔
متوفی کی زندگی میں ادا نہ کی گئی زکوٰۃ کا مسئلہ اکثر پوچھا جاتا ہے؛ اپنی زکوٰۃ کا حساب بروقت رکھنے کے لیے ہمارا آن لائن زکوٰۃ کیلکولیٹر استعمال کریں، اور قرآن مجید میں وراثت کی آیات خود پڑھنے کے لیے قرآن آیت سرچ ٹول میں سورۃ النساء تلاش کریں۔
Islamic Inheritance Calculator – اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)
اسلامی وراثت کیلکولیٹر کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟
یہ ایک مفت آن لائن ٹول ہے جو متوفی کی نقد رقم، زمین کے رقبے اور قریبی وارثوں (بیوی یا شوہر، ماں، باپ، بیٹے، بیٹیاں) کی تفصیل لے کر فقہ حنفی کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہر وارث کا فیصد حصہ، رقم اور زمین کا رقبہ دکھاتا ہے۔
اگر متوفی کی کوئی اولاد نہ ہو تو بیوی کا کتنا حصہ ہے؟
اگر متوفی شوہر کی کوئی اولاد نہ ہو تو بیوی یا تمام بیویوں کا مجموعی حصہ ترکے کا چوتھائی یعنی 1/4 (25%) ہے، اور اولاد ہو تو 1/8 (12.5%)۔
بیٹے اور بیٹیاں دونوں ہوں تو تقسیم کیسے ہوگی؟
بیوی یا شوہر اور ماں باپ کے مقررہ حصے دینے کے بعد باقی ترکہ بیٹوں اور بیٹیوں میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ ہر بیٹے کو ہر بیٹی سے دوگنا ملے (2:1)۔
اگر صرف ایک بیٹی ہو اور بیٹا نہ ہو تو اسے کتنا ملے گا؟
ایک بیٹی کو ترکے کا آدھا (1/2) بطورِ فرض ملتا ہے۔ باقی مال عصبہ (مثلاً والد) کو جاتا ہے، اور کوئی عصبہ نہ ہو تو فقہ حنفی میں رد کے ذریعے ذوی الفروض کو لوٹایا جاتا ہے، شوہر یا بیوی کو چھوڑ کر۔
کیا وراثت کی تقسیم سے پہلے قرض ادا کرنا ضروری ہے؟
جی ہاں۔ پہلے کفن دفن کے جائز اخراجات، پھر قرض، پھر ایک تہائی کی حد تک جائز وصیت، اور اس کے بعد باقی مال وارثوں میں تقسیم ہوتا ہے۔
1 مرلہ کتنے مربع فٹ کا ہوتا ہے؟
ریونیو (پٹوار) ریکارڈ میں 1 مرلہ 272.25 مربع فٹ ہے اور یہی کیلکولیٹر استعمال کرتا ہے۔ بعض ہاؤسنگ سوسائٹیز میں 225 مربع فٹ کا مرلہ ہوتا ہے؛ ایسی صورت میں رقبہ سیدھا مربع فٹ میں درج کریں۔
کیا اس کیلکولیٹر کا نتیجہ فتویٰ ہے؟
نہیں۔ یہ تعلیمی رہنمائی ہے اور رد، عول، بہن بھائیوں یا دیگر رشتہ داروں والی صورتیں اس میں شامل نہیں۔ حقیقی تقسیم سے پہلے نتیجہ کسی مستند مفتی یا دارالافتاء کو دکھا کر تصدیق کروائیں۔
خلاصہ
اسلامی قانونِ وراثت اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ عادلانہ نظام ہے جس میں بیٹیوں، بیویوں اور ماؤں سمیت ہر وارث کا حق متعین ہے۔ Islamic Inheritance Calculator (Hanafi) آپ کو نقد رقم اور زمین کی بنیادی تقسیم سیکنڈوں میں سمجھا دیتا ہے؛ پیچیدہ صورتوں میں مفتی صاحب سے رجوع کریں اور تمام وارثوں کو ان کا حق بروقت اور خوش اسلوبی سے ادا کریں۔
مزید مفید مضامین
- زکوٰۃ کیلکولیٹر – آن لائن زکوٰۃ کا حساب
- نماز جنازہ کا طریقہ اور دعائیں
- مرحوم کے لیے مغفرت کی دعا
- بہترین مفت اسلامی آن لائن ٹولز
ماخذ اور جائزہ: قرآن مجید (quran.com – سورۃ النساء 4:11، 4:12)، احادیث (sunnah.com – صحیح بخاری 2742، جامع ترمذی 2120)۔ مواد کا جائزہ Qilaj editorial team نے لیا ہے۔









