
فقہ حنفی اسلامی قانونِ وراثت کیلکولیٹر
Islamic Inheritance Calculator سے وراثت کا شرعی حصہ معلوم کریں
اسلامی شریعت اور فقہ حنفی کے مطابق جائیداد، زمین اور نقد رقم کی تقسیم کا مکمل طریقہ، طریقہ کار، احتیاطیں اور تفصیلی معلومات۔
اسلامی وراثت کیلکولیٹر (Islamic Inheritance Calculator) کیا ہے؟
Islamic Inheritance Calculator ایک جدید، آسان اور انتہائی مفید آن لائن ٹول ہے جو متوفی (فوت ہو جانے والے شخص) کے ترکے، جائیداد، نقد رقم اور زمین کو اسلامی قوانین کے مطابق تقسیم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ قرآن و سنت اور فقہ حنفی کے طے شدہ اصولوں کی روشنی میں یہ کیلکولیٹر تمام شرعی وارثوں جیسے کہ بیوی، شوہر، بیٹے، بیٹیاں، ماں اور باپ کے حصے خودکار طریقے سے معلوم کرتا ہے۔
وراثت کی تقسیم ایک اہم اور نازک دینی فریضہ ہے۔ بہت سے خاندانوں میں معلومات کی کمی، پیچیدہ حساب کتاب یا مقامی رسومات کی وجہ سے وراثت کی تقسیم میں تاخیر ہو جاتی ہے یا شرعی اصولوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ Hanafi Inheritance Calculator کا مقصد اس پیچیدہ حساب کو آسان بنانا ہے تاکہ ہر فرد کو اس کا شرعی حق واضح طور پر معلوم ہو سکے اور جائیداد کے تنازعات سے بچا جا سکے۔
Hanafi Inheritance Calculator کا استعمال کیسے کریں؟
ہماری ویب سائٹ کا Warasat Calculator Pakistan استعمال کرنا انتہائی آسان ہے۔ آپ چند منٹوں میں اپنے خاندان کی وراثتی تقسیم کا ممکنہ حساب لگا سکتے ہیں۔ اس کے لیے ذیل میں دیے گئے مراحل پر عمل کریں:
- متوفی کی جنس کا انتخاب کریں: سب سے پہلے یہ منتخب کریں کہ فوت ہونے والا فرد مرد تھا یا عورت۔ اس انتخاب کی بنیاد پر شوہر یا بیوی کا ان پٹ باکس خودکار طریقے سے ظاہر یا مخفی ہو جائے گا۔
- ترکے کی تفصیلات درج کریں:
- نقد رقم: متوفی کی چھوڑی ہوئی کل قابلِ تقسیم نقد رقم (پاکستانی روپے میں) درج کریں۔
- زمین کا رقبہ: اگر ترکے میں زمین شامل ہے تو اس کا رقبہ ایکڑ، کنال، مرلہ یا مربع فٹ کے خانے میں درج کریں۔ کیلکولیٹر اسے خودکار طور پر کل مربع فٹ میں تبدیل کر لے گا۔
- موجودہ وارثوں کی تعداد بتائیں: متوفی کے فوت ہوتے وقت جو جو وارث زندہ تھے، ان کی تعداد درج کریں:
- بیویوں کی تعداد (زیادہ سے زیادہ 4) یا شوہر (1)
- بیٹوں کی تعداد
- بیٹیوں کی تعداد
- ماں (1) اور باپ (1)
- حساب لگائیں: تمام تفصیلات درج کرنے کے بعد “اپنا شرعی حصہ ابھی معلوم کریں” کے بٹن پر کلک کریں۔
- نتائج کا جائزہ لیں: کیلکولیٹر کے نیچے ایک منظم ٹیبل ظاہر ہوگا جس میں ہر وارث کا نام، اس کا شرعی کسر (Fraction)، فیصد (Percentage)، نقد رقم کا حصہ اور زمین کا حصہ (ایکڑ، کنال، مرلہ اور مربع فٹ) الگ الگ واضح طور پر دکھائی دے گا۔
اسلامی قانونِ وراثت کے بنیادی اصول (Principles of Islamic Inheritance)
اسلام میں وراثت کا نظام عدل، انصاف اور حکمت پر مبنی ہے۔ قرآن مجید کی سورۃ النساء (آیات 11، 12 اور 176) میں وراثت کے قوانین اور حصوں کی صراحت کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے۔ اسلامی وراثت کے کچھ بنیادی اصول درج ذیل ہیں:
1. ترکے کی صاف شفاف تعین (Tarqah Determination)
کسی بھی فوت ہونے والے شخص کی جائیداد کو وارثوں میں تقسیم کرنے سے پہلے چار بنیادی مراحل سے گزرنا ضروری ہوتا ہے:
- تجهيز وتكفين (تجہیز و تکفین): متوفی کے غسل، کفن اور تدفین کے درمیانے اور جائز اخراجات سب سے پہلے ترکے سے ادا کیے جائیں گے۔
- اداء الديون (قرضوں کی ادائیگی): متوفی کے ذمے جو بھی بندوں کے قرضے یا شرعی حقوق (جیسے زکوۃ، نذر، یا بیوی کا غیر ادا شدہ مہر) ہوں، وہ مکمل طور پر ادا کیے جائیں گے۔
- تنفيذ الوصايا (وصیت پر عمل): اگر متوفی نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو، تو قرضوں کی ادائیگی کے بعد بچے ہوئے مال کے **ایک تہائی (1/3)** حصے کی حد تک اس وصیت کو نافذ کیا جائے گا۔
- تقسيم الترکة (ترکے کی تقسیم): مذکورہ بالا تینوں امور کی انجام دہی کے بعد جو جائیداد یا رقم بچے گی، اسے تمام شرعی وارثوں میں ان کے طے شدہ حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
وراثت میں بیوی کا کتنا حصہ ہوتا ہے؟
اسلامی شریعت میں بیوی کا حصہ متوفی شوہر کی اولاد (اولادِ نرینہ یا دخترینہ) کی موجودگی یا عدم موجودگی پر منحصر ہوتا ہے:
- اولاد کی موجودگی میں (1/8 حصہ): اگر متوفی شوہر کی کوئی اولاد (بیٹا یا بیٹی، چاہے اسی بیوی سے ہو یا کسی سابقہ بیوی سے) موجود ہو، تو بیوی یا تمام بیویوں کا مجموعی حصہ ترکے کا **آٹھواں حصہ (1/8 یا 12.5%)** ہوتا ہے۔
- اولاد کی عدم موجودگی میں (1/4 حصہ): اگر متوفی شوہر کی کوئی اولاد نہ ہو، تو بیوی یا بیویوں کا مجموعی حصہ ترکے کا **چوتھائی حصہ (1/4 یا 25%)** ہوتا ہے۔
- ایک سے زائد بیویاں: اگر متوفی کی ایک سے زیادہ بیویاں (مثلاً دو، تین یا چار) ہوں، تو 1/8 یا 1/4 کا مقررہ حصہ تمام بیویوں میں برابر تقسیم کیا جاتا ہے، ہر بیوی کو الگ سے پورا حصہ نہیں ملتا۔
وراثت میں شوہر کا کتنا حصہ ہوتا ہے؟
اگر متوفی عورت ہو اور اس نے اپنے پیچھے شوہر چھوڑا ہو، تو شوہر کا حصہ درج ذیل اصولوں کے مطابق طے ہوتا ہے:
- اولاد کی موجودگی میں (1/4 حصہ): اگر متوفی بیوی کی کوئی اولاد (بیٹا یا بیٹی) موجود ہو، تو شوہر کا حصہ **چوتھائی (1/4 یا 25%)** ہوتا ہے۔
- اولاد کی عدم موجودگی میں (1/2 حصہ): اگر متوفی بیوی کی کوئی اولاد نہ ہو، تو شوہر کو کل ترکے کا **آدھا حصہ (1/2 یا 50%)** ملتا ہے۔
بیٹے اور بیٹی کا وراثتی حصہ کیسے نکلتا ہے؟
اولاد کو اسلام میں جائیداد کا اہم وارث (عصبہ) قرار دیا گیا ہے۔ بیٹے اور بیٹیوں کے حصوں کی تقسیم کے اصول درج ذیل ہیں:
1. صرف بیٹے اور بیٹیاں ایک ساتھ موجود ہوں
قرآن پاک کا بنیادی حکم ہے: “للذكر مثل حظ الأنثيين” (ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے)۔ یعنی جب بیٹے اور بیٹیاں دونوں موجود ہوں، تو باقی ماندہ ترکہ اس طرح تقسیم کیا جاتا ہے کہ ہر بیٹے کو بیٹی کے مقابلے میں ڈبل (دوگنا) حصہ ملتا ہے۔
مثال: اگر ایک متوفی کے 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہوں۔ تو کل حصے بنانے کے لیے ہر بیٹے کے 2 پوائنٹس اور ہر بیٹی کا 1 پوائنٹ شمار کیا جائے گا (2×2 + 2×1 = 6 حصے)۔ ترکے کو 6 حصوں میں تقسیم کر کے ہر بیٹے کو 2 حصے اور ہر بیٹی کو 1 حصہ دیا جائے گا۔
2. صرف بیٹیاں موجود ہوں (بیٹا نہ ہو)
- ایک بیٹی: اگر متوفی کی صرف ایک بیٹی ہو اور کوئی بیٹا نہ ہو، تو اسے کل ترکے کا **آدھا (1/2 یا 50%)** حصہ ملتا ہے۔
- دو یا دو سے زائد بیٹیاں: اگر متوفی کی دو یا دو سے زیادہ بیٹیاں ہوں اور کوئی بیٹا نہ ہو، تو تمام بیٹیاں مل کر کل ترکے کے **دو تہائی (2/3 یا 66.66%)** حصے کی حقدار ہوتی ہیں، جو ان میں برابر تقسیم ہوتا ہے۔
3. صرف بیٹے موجود ہوں (بیٹی نہ ہو)
اگر متوفی کے صرف بیٹے ہوں اور کوئی بیٹی نہ ہو، تو دیگر ذوی الفروض (جیسے بیوی/شوہر، ماں، باپ) کا مقررہ حصہ دینے کے بعد باقی تمام جائیداد بیٹوں میں برابر تقسیم کر دی جاتی ہے۔
ماں کا وراثت میں کتنا حصہ ہے؟
اسلام میں ماں کے احترام کے ساتھ ساتھ اس کے وراثتی حقوق کو بھی محفوظ کیا گیا ہے۔ ماں کے حصوں کی تین اہم صورتیں ہیں:
- 1/6 حصہ (چھٹا حصہ): اگر متوفی کی اولاد (بیٹا/بیٹی) موجود ہو یا متوفی کے دو یا دو سے زیادہ بھائی/بہن (چاہے سگے ہوں، علاتی ہوں یا اخیافی) موجود ہوں، تو ماں کا حصہ **1/6 (16.67%)** ہوتا ہے۔
- 1/3 حصہ (تہائی حصہ): اگر متوفی کی نہ تو کوئی اولاد ہو اور نہ ہی دو یا اس سے زیادہ بھائی بہن ہوں، تو ماں کو کل ترکے کا **1/3 (33.33%)** حصہ ملتا ہے۔
- عمریتان کیس (Omariyyatan Cases): بعض مخصوص صورتوں میں (جہاں صرف زوجین، ماں اور باپ ہوں) ماں کو شوہر/بیوی کا حصہ نکالنے کے بعد باقی ماندہ جائیداد کا 1/3 ملتا ہے۔
باپ کا وراثت میں کتنا حصہ ہے؟
والد کا حصہ متوفی کی اولاد کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے:
- صرف فرض (1/6 حصہ): اگر متوفی کا بیٹا یا پوتا موجود ہو، تو والد کو صرف **1/6 (چھٹا حصہ)** ملتا ہے۔
- فرض + عصبہ (1/6 + باقی ماندہ): اگر متوفی کی صرف بیٹی یا پوتی ہو (بیٹا نہ ہو)، تو والد کو 1/6 حصہ بطورِ فرض ملتا ہے اور دیگر وارثوں کو حصے دینے کے بعد بچ جانے والا باقی مال بھی بطورِ عصبہ والد کو ہی ملتا ہے۔
- صرف عصبہ (مکمل باقی ماندہ مال): اگر متوفی کی کوئی اولاد (نہ بیٹا، نہ بیٹی) نہ ہو، تو ذوی الفروض (مثلاً بیوی یا شوہر اور ماں) کا حصہ دینے کے بعد تمام بچ جانے والی جائیداد کا مالکانہ حق والد کے پاس جاتا ہے۔
Warasat Calculator میں رقم اور نقد ترکے کا حساب کیسے ہوتا ہے؟
نقد رقم کی تقسیم کا حساب کتاب انتہائی سادہ اور ریاضیاتی ہوتا ہے۔ Islamic Inheritance Calculator میں رقم کی تقسیم درج ذیل فارمولے پر کی جاتی ہے:
$$\text{وارث کا رقم میں حصہ} = \text{کل قابلِ تقسیم رقم} \times \text{وارث کا شرعی تناسب (Fraction)}$$عملی مثال: فرض کریں متوفی نے **1,000,000 روپے (10 لاکھ)** کا ترکہ چھوڑا۔ وارثوں میں ایک بیوی، ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں:
- بیوی کا حصہ (اولاد کی موجودگی میں 1/8): $$\text{Rs } 1,000,000 \times \frac{1}{8} = \text{Rs } 125,000$$
- باقی ماندہ رقم: $$\text{Rs } 1,000,000 – \text{Rs } 125,000 = \text{Rs } 875,000$$
- بیٹے اور بیٹی کا تناسب (2:1 یعنی کل 3 حصے):
- بیٹے کا حصہ: $$\text{Rs } 875,000 \times \frac{2}{3} = \text{Rs } 583,333.33$$
- بیٹی کا حصہ: $$\text{Rs } 875,000 \times \frac{1}{3} = \text{Rs } 291,666.67$$
زمین کی وراثت کا حصہ مربع فٹ میں کیسے نکالیں؟
پاکستان اور جنوبی ایشیا میں زمین کی پیمائش کے لیے مقامی اکائیاں جیسے ایکڑ، کنال اور مرلہ استعمال کی جاتی ہیں۔ لیکن وراثت کی تقسیم میں درستگی برقرار رکھنے کے لیے تمام رقبے کو **مربع فٹ (Square Feet)** میں تبدیل کرنا سب سے محفوظ اور بہترین طریقہ ہے۔
مرلہ، کنال، ایکڑ اور مربع فٹ کا حساب (Conversion Table)
ہماری ویب سائٹ کا Warasat Calculator Pakistan بالخصوص پاکستانی ریونیو ریکارڈز کے مطابق درج ذیل سسٹینڈرڈ کنورژن استعمال کرتا ہے:
| زمین کی اکائی (Unit) | مساوی پیمائش (Equivalent) | کل مربع فٹ (Total Sq. Ft.) |
|---|---|---|
| 1 مرلہ (Marla) | 272.25 (عام حساب میں 272) مربع فٹ | 272 sq ft |
| 1 کنال (Kanal) | 20 مرلہ | 5,440 sq ft |
| 1 ایکڑ (Acre) | 8 کنال / 160 مرلہ | 108,800 sq ft |
| 1 مربع (Square/Murabba) | 25 ایکڑ | 2,720,000 sq ft |
نوٹ: پاکستان کے بعض شہری علاقوں (جیسے این او سی ہاؤسنگ سوسائٹیز) میں 1 مرلہ 225 مربع فٹ کا بھی شمار ہوتا ہے، جبکہ سرکاری پٹوار ریکارڈ میں 1 مرلہ 272.25 مربع فٹ کا ہوتا ہے۔ ہمارا کیلکولیٹر آفیشل پٹوار سائز (272 sq ft) پر مبنی ہے۔
ہر وارث کا الگ الگ حصہ کیسے معلوم کریں؟
اکثر لوگ اس بات پر پریشان ہو جاتے ہیں کہ جب ایک سے زیادہ بیٹے، بیٹیاں یا بیویاں ہوں تو کیا نتیجہ مجموعی ہے یا انفرادی؟
ہمارے Islamic Inheritance Calculator کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ نہ صرف پورے گروپ کا حصہ بتاتا ہے بلکہ **”ہر ایک کا الگ حصہ”** بالکل واضح دکھاتا ہے۔ اگر نتائج میں دکھایا گیا ہے کہ 3 بیٹوں کا مجموعی حصہ 60% ہے، تو ٹیبل کی صراحت کے مطابق ہر ایک بیٹے کو انفرادی طور پر 20% حصہ، اس کے حصے کی نقد رقم اور زمین کا متعین رقبہ الگ سے ملے گا۔
رد (Radd) اور عول (Awl) کے شرعی مفاہیم
بعض اوقات وراثت کی تقسیم میں عجیب ریاضیاتی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے جنہیں فقہ حنفی میں **العول** اور **الرد** کہا جاتا ہے:
1. الرد (Radd) – حصوں کا کم ہونا اور مال کا بچ جانا
اگر تمام فرض داروں (ذوی الفروض) کو ان کے شرعی حصے دینے کے بعد بھی ترکے میں سے کچھ مال بچ جائے اور وہاں کوئی عصبہ (مثلاً بیٹا یا باپ) موجود نہ ہو، تو بچا ہوا مال تمام فرض داروں میں ان کے حصوں کے تناسب سے دوبارہ تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ اس عمل کو “رد” کہتے ہیں۔ (یاد رہے کہ زوجین یعنی شوہر یا بیوی پر عام حالتوں میں رد نہیں ہوتا)۔ ہمارا کیلکولیٹر رد کے اصولوں کو خودکار طریقے سے ایڈجسٹ کرتا ہے۔
2. العول (Awl) – حصوں کا زیادہ ہونا اور مال کا کم پڑنا
اگر تمام وارثوں کے مقررہ حصوں کو جمع کیا جائے اور ان کا مجموعہ 1 (یعنی 100%) سے بڑھ جائے، تو ہر وارث کے حصے میں تناسب کے حساب سے معمولی کمی کر دی جاتی ہے تاکہ ترکہ پورا ہو سکے۔ اس صورتحال کو فقہ اسلام میں “عول” کہا جاتا ہے۔
Islamic Inheritance Calculator کا نتیجہ حتمی فتویٰ ہے؟
ہم واضح طور پر آگاہ کرتے ہیں کہ یہ آن لائن کیلکولیٹر صرف ابتدائی تعلیمی، معلوماتی اور حساب کتاب کی رہنمائی کے لیے فراہم کیا گیا ہے۔
اگرچہ اس کیلکولیٹر کو فقہ حنفی کے درست ترین الگورتھم پر کوڈ کیا گیا ہے، لیکن حقیقی زندگی کے وراثتی مسائل میں درج ذیل پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں جن کا احاطہ ایک سافٹ ویئر نہیں کر سکتا:
- محرومی یا حجب (Exclusion Rules): کچھ رشتہ داروں کی موجودگی میں دوسرے رشتہ دار وراثت سے محروم ہو جاتے ہیں (مثلاً بیٹے کی موجودگی میں پوتا یا بھائی محروم ہو جاتا ہے)۔
- مناسخہ (Multiple Deaths): اگر خاندان میں ایک کے بعد دوسری موت واقع ہوئی ہو اور پہلی وراثت تقسیم نہ ہوئی ہو۔
- مشترکہ خاندانی جائیداد: جہاں یہ طے کرنا مشکل ہو کہ متوفی کا اپنا ذاتی مال کتنا تھا۔
- تنازعات اور عدالت: ملکیت کے تنازعات یا پیچیدہ خاندانی امور۔
لہٰذا، کسی بھی جائیداد کی حتمی، قانونی اور شرعی تقسیم سے قبل اپنے قریبی مستند دارالافتاء، مفتیِ کرام یا سول کورٹ سے شرعی وراثت کا آفیشل سرٹیفکیٹ یا فتویٰ حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔
Warasat Calculator Pakistan کے اہم فوائد
- 100% مفت اور تیز ترین: بغیر کسی رجسٹریشن یا فیس کے فوراً نتائج فراہم کرتا ہے۔
- موبائل فرینڈلی ڈیزائن: آپ اسے اپنے سمارٹ فون، ٹیبلٹ یا کمپیوٹر پر انتہائی آسانی سے استعمال کر سکتے ہیں۔
- دوہری تقسیم (رقم + زمین): یہ واحد کیلکولیٹر ہے جو رقم کے ساتھ ساتھ زمین کا رقبہ ایکڑ، کنال، مرلہ اور مربع فٹ میں الگ الگ کیلکولیٹ کرتا ہے۔
- شفافیت اور سکون: خاندان کے تمام ممبران کے سامنے واضح اور شفاف حساب رکھ کر تنازعات کو ختم کرتا ہے۔
- فقہ حنفی کے مطابق: پاکستان اور جنوبی ایشیا کے کثیر الجہتی فقہی نظام کے عین مطابق تیار کردہ۔
وراثت تقسیم کرتے وقت کن اہم باتوں کا خیال رکھیں؟
اگر آپ اپنے خاندان میں وراثت کی تقسیم کرنے جا رہے ہیں، تو درج ذیل اخلاقی و شرعی نکات کو مدنظر رکھیں:
- تاخیر سے گریز کریں: متوفی کی وفات کے بعد جلد از جلد شرعی واجبات ادا کر کے وراثت تقسیم کر دینی چاہیے۔ تاخیر سے مسائل اور بغض جنم لیتے ہیں۔
- خواتین کے حقوق کا تحفظ: اسلام میں بیٹیوں، بہنوں اور بیویوں کو وراثت کا مکمل حق دیا گیا ہے۔ جائیداد سے عورتوں کو محروم کرنا یا ان سے زبردستی دستبرداری کے کاغذات پر دستخط کروانا شدید گناہِ کبیرہ ہے۔
- رضامندی سے تقسیم: اگر تمام وارث بالغ اور عقلمند ہوں تو وہ باہمی رضامندی سے جائیداد کو فروخت کر کے نقد رقم تقسیم کر سکتے ہیں یا زمین کے حصے الگ کر سکتے ہیں۔
- قانونِ پاکستان کی پاسداری: وراثت کی شرعی تقسیم کے ساتھ ساتھ نادرہ (NADRA) سے “Succession Certificate” (جانشینی سرٹیفکیٹ) اور مقامی پٹوار خانے سے انتقالِ جائیداد (Mutation of Property) کا اندراج لازمی کروائیں۔
Islamic Inheritance Calculator کے بارے میں اکثر سوالات (FAQs)
Q1: اسلامی وراثت کیلکولیٹر کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟
جواب: اسلامی وراثت کیلکولیٹر ایک ڈیجیٹل ویب ٹول ہے جو متوفی کے رشتے داروں، کل نقد رقم اور زمین کے رقبے کے ان پٹ کی بنیاد پر شرعی قوانین (فقہ حنفی) کے مطابق ہر وارث کا انفرادی حصہ فیصد، رقم اور مربع فٹ میں نکالتا ہے۔
Q2: کیا یہ کیلکولیٹر فقہ حنفی کے اصولوں پر پورا اترتا ہے؟
جواب: جی ہاں، یہ کیلکولیٹر خاص طور پر فقہ حنفی کے طے شدہ قوانین، ذوی الفروض، عصبات، رد اور منافع کے بنیادی اصولوں کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔
Q3: اگر متوفی کی کوئی اولاد نہ ہو تو بیوی کا کتنا حصہ بنتا ہے؟
جواب: اگر متوفی شوہر کی کوئی اولاد نہ ہو، تو بیوی (یا تمام بیویوں) کا مقررہ حصہ کل ترکے کا چوتھائی یعنی 1/4 (25%) ہوتا ہے۔
Q4: اگر متوفی کے بیٹے اور بیٹیاں دونوں ہوں تو تقسیم کیسے ہوگی؟
جواب: بیوی/شوہر یا ماں باپ کے حصے نکالنے کے بعد بچ جانے والی تمام جائیداد بیٹے اور بیٹیوں میں اس طرح تقسیم ہوگی کہ ہر بیٹے کو بیٹی کے مقابلے میں ڈبل (دوگنا) حصہ ملے گا۔
Q5: کیا وراثت کی تقسیم سے پہلے قرض کی ادائیگی ضروری ہے؟
جواب: جی بالکل! اسلامی شریعت کا بنیادی قانون ہے کہ متوفی کے تجہیز و تکفین کے بعد سب سے پہلے اس کے تمام قرضے ادا کیے جائیں گے، اس کے بعد وصیت (اگر ہو) نافذ ہوگی، اور سب سے آخر میں بچ جانے والا مال وارثوں میں بٹے گا۔
Q6: کیا 1 مرلہ ہمیشہ 272 مربع فٹ کا ہی ہوتا ہے؟
جواب: پاکستان کے سرکاری پٹوار اور ریونیو ریکارڈ میں 1 مرلہ 272.25 مربع فٹ کا شمار ہوتا ہے۔ تاہم بعض پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں 225 sq ft کا مرلہ بھی ہوتا ہے۔ ہمارا کیلکولیٹر آفیشل سائز (272 sq ft) پر کام کرتا ہے۔
Q7: اگر متوفی کی صرف ایک بیٹی ہو اور کوئی بیٹا نہ ہو تو بیٹی کو کتنا ملے گا؟
جواب: اگر صرف ایک ہی بیٹی ہو اور کوئی بیٹا نہ ہو تو اسے ترکے کا 1/2 (50%) حصہ بطورِ فرض ملتا ہے۔ باقی جائیداد دیگر عصبات (مثلاً متوفی کے والد، بھائی وغیرہ) کو جاتی ہے۔
Q8: کیا ہم اس کیلکولیٹر کے نتائج کی بنیاد پر براہ راست جائیداد تقسیم کر سکتے ہیں؟
جواب: یہ کیلکولیٹر آپ کو بہترین اور درست ریاضیاتی حساب فراہم کرتا ہے، لیکن قانونی اور شرعی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے ہم تجویز کرتے ہیں کہ نتائج کا پرنٹ آؤٹ لے کر کسی مستند مفتی یا دارالافتاء سے تصدیق کروا لیں۔
اسلامی وراثت کیلکولیٹر کا خلاصہ (Summary)
اسلامی قانونِ وراثت اللہ تعالیٰ کا قائم کردہ ایک عادلانہ نظام ہے جس کا مقصد معاشرے میں مالی استحکام اور خاندانوں میں الفت برقرار رکھنا ہے۔ Islamic Inheritance Calculator کا استعمال آپ کو وراثت کے پیچیدہ حساب کتاب کو سیکنڈوں میں سمجھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ چاہے نقد رقم کی تقسیم ہو یا زمین کو مرلے اور مربع فٹ میں بانٹنا ہو، یہ ٹول آپ کی مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ اپنے حقوق کی معرفت حاصل کریں اور اپنے تمام وارثوں کو ان کا جائز شرعی حق بروقت اور خوش اسلوبی سے فراہم کریں۔
















